کو شمارِ رَکعَت(رَک۔عَت) میں شک ہو، مَثَلاً تین ہوئیں یا چار اور بُلُوغ(یعنی بالغ ہونے) کے بعد یہ پہلا واقِعہ ہے تو سلام پھیر کر یا کوئی عمل مُنَافی نَماز(یعنی جونَماز سے باہَر کر دے ایسا فِعل) کر کے توڑ دے یا گمانِ غالِب کے بَمُوجَب پڑھ لے مگربَہر صورت اِس نماز کو سِرے سے پڑھے۔ مَحض توڑنے کی نیَّت کافی نہیں ۔ اور اگر یہ شک پہلی بار نہیں بلکہ پیشتر (یعنی اس سے قبل)بھی ہوچکا ہے تو اگر گُمانِ غالِب کسی طرف ہو تو اُس پر عمل کرے ورنہ کم کی جانب کو اختیار کرے، یعنی تین اور چار میں شک ہو تو تین قرار دے، دو اور تین میں شک ہو تو دو۔ وَعَلٰی ہٰذَا الْقِیاس(یعنی اوراِسی اندازے کے مطابِق)اور تیسری چوتھی دونوں میں قَعدہ کرے(یعنی التَّحیات میں بیٹھے) کہ تیسری رَکْعَت کا چوتھی ہونا محتمل ہے ( یعنی تیسری کے چوتھی ہونے کا اِمکان ہے) اور چوتھی میں قعدے کے بعد سَجدئہ سَہوکرکے سلام پھیر دے۔البتہ گُمانِ غالِب کی صورت میں سجدئہ سَہو نہیں ۔
شیطان کے لیے باعثِ ذلّت وخواری
میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنارشاد فرماتے ہیں : تین اور چار رَکعَت میں شک ہو تو تین قرار دے کر ایک رَکعَت اور پڑھ لے پھر سجدئہ سَہو کرلے، اب اگر واقِعی اس کی پانچ ہوئیں تو یہ دونوں سجدے گویا ایک رَکْعَت کے قائم ہو کر اس کی نماز کا دو گانہ پورا کردیں گے۔ ایک رَکعَت اکیلی نہ رہے گی جو شَرعاًباطل ہے بلکہ اِن سجدوں سے مل کر گویا ایک نفل دوگانہ جُداگانہ ہوجائے گا۔ اگر