Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
31 - 59
 تجرِبہ(تَج۔ رِ۔ بہ ) ہے کہ جو تحریمہ (یعنی نماز شروع کرنے)سے پہلے اِس طرح (یعنی اُلٹی طرف تین بار ) تُھتکار کر  لاحول شریف(یعنیلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم) پڑھ لے پھر تحریمہ کرے (یعنی نَماز شروع کرے)، دورانِ نَمازمیں نگاہ کی حفاظت کرے (وہ یوں )کہ قِیام میں سَجدہ گاہ (یعنی سجدے کی جگہ)  رُکوع میں پُشتِ قَدَم(یعنی پاؤں کے پنجے کی اوپری سطح)، سجدے میں ناک کے بانسے (یعنی ناک کی ہڈّی پر ) ، جلسہ (یعنی دوسجدوں کے درمیان بیٹھنے میں )اور قَعدہ (یعنی اَلتَّحِیّات وغیرہ پڑھنے)میں گود میں (نظر) رکھے تو اِنْ شَآءَاللہ نَماز میں حُضورِ(قَلب یعنی خُشوع و خُضوع)نصیب ہو گا۔  (مِراٰۃالمناجیح ج۱ ص۸۹)
تھوک شیطان کے منہ میں پڑے گا
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مشکوٰۃ شریف کے ’’بابُ الوسوسہ‘‘ میں مُندرَج (مُن۔دَ۔رَجْ۔ یعنی دَرج کردہ) ایک اور حدیثِ پاک کہ جس میں ’’ علاجِ وسوسہ ‘‘کیلئے بائیں طرف تین بار تھتکارنے کا تذکِرہ ہے، اُس کے تحت مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :یہ تھوک شیطان کے منہ پر پڑے گا ، جس سے وہ ذلیل ہو کر بھاگے گا کیونکہ شیطان اکثر بائیں (یعنی الٹی)طرف سے آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی تھوک سے بھی شیطان بھاگتا ہے۔( مراٰۃ جلد اول ص ۸۸) اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سگِ مدینہ عفی عنہ کا بار ہا کا تجرِبہ ہے کہ جب استنجاخانے میں شیطان کے وسوسے آتے ہیں تو الٹے کندھے کی طرف تین بار تُھتکار دینے سے شیطان ذلیل ہو کر