اُس سے کہدو:’’میں بے وُضو ہی پڑھوں گا تیری نہ سُنوں گا۔‘‘ یوں وہ خبیث باز آتا ہے اور اس کی سنو تو اور زیادہ پریشان کرتا ہے۔
میں تیری اطاعت کروں یا الہٰی
نہ شیطاں کی ہرگز سنوں یا الہٰی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نَماز میں وَسوسے
نَمازمیں بھی شیطان تنگ کرتا اور دھیان بٹاتا رہتاہے۔’’ مُسلمِ شریف ‘‘کی روایت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن ابی العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یَا رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!شیطان مجھ میں اور میری نَماز اور تِلاوت میں حائل ہوگیا، نماز مُشْتَبہ(یعنی مشکوک) کردی۔ حُضُورِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اس شیطان کو خِنْزَبْ کہا جاتا ہے، جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار تُھتکاردو۔ چُنانچِہ میں نے یِہی کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے دَفع فرمایا۔ (صَحیح مُسلِم ص۱۲۰۹ حدیث۲۲۰۳)
نَماز میں آنے والے وَ سوَسوں سے بچنے کا طریقہ
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : نَماز شُروع کرتے وقت تکبیرِ تحریمہ سے قَبل،