Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
29 - 59
 دل سَوزی اُٹھا رکھے(یعنی شیطان اپنی ہمدردی اپنے پاس ہی رکھے ، مجھے بتانے کی حاجت نہیں اور میرے لیے دل جلانے کی کوئی ضرورت نہیں )، مجھ سے تو اِتنا ہی ہو سکتا ہے ،اگر(میرا عمل) ناقِص ہے تو میں خود بھی توناقِص ہوں ، اپنے لا ئق میں بجالایا،میرا مولا عَزَّ وَجَلَّ  کریم ہے ۔ میرے عجزوضُعف (یعنی میری بے بسی اور کمزوری )پر رَحم فرما کر اِتنا ہی قَبول فرما لے گا،اُس کی عَظَمت کے لائق کون بجا لا سکتا ہے! اگر ایسا کرنے سے بھی وسوسہ نہ ٹلے تو کہہ دے کہ اگر تیرے کہنے سے میرا وُضُو نہ ہوا،میری نَماز(نہ ہوئی تو) نہ سہی مگر مجھے تیرے خیال کے مطابِق بے وُضو یاظہر کی تین رَکعَت پڑھنا گوارا ہے اور اے ملعون !تیری اطاعت قَبول نہیں ۔جب یوں دل میں ٹھان لی تو وسوسے کی جڑ کٹ جائے گی ۔ اور بِعَوْنِہٖ تعالٰی( یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد سے) دشمن( شیطان) ذلیل و خوار پسپا ہو گا۔‘‘(مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ   ج۱ ص۸۶ ۷ ، ۷ ۸ ۷ ) حضرت سیِّدُنااِمام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کے فرمان کا بھی یِہی مطلب ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : مجھے بے وُضُو نَماز پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں ۔ (یہاں حقیقت میں بے وضو نماز پڑھنا مراد نہیں شیطان کا وسوسہ دَفع کرنا مقصود ہے)(الطریقۃ المحمدیہ مع شرحہ الحدیقۃالندیۃ ج۲ص۶۸۸ )  
	جا میں بے وُضُو ہی نَماز پڑھوں گا	
	 سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے اُستاذُ الْاُستاذ، امامِ اَجل ابراہیم نَخْعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   فرماتے ہیں :شیطان کے وَسوسے پر عمل نہ کرو، اگر وہ زیادہ پریشان کرے تو