ہے کہ رِیح خارِج ہونے کا خیال گزرتا ہے۔اِس (طرح کے وسوسے آنے)پر حکم ہو ا کہ نَماز سے نہ پِھرو،جب تک تَری یا آواز یا بُو نہ پاؤ،جب تک وُقوعِ حدَث (یعنی وُضو ٹوٹنے ) پریقین نہ ہو لے۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ ص۷۷۴)
شیطان سے کہہ دیجئے:’’ تُو جھوٹا ہے‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب تک وضو ٹوٹنے کا ایسا یقین نہ ہو کہ جس پر قسم کھائی جا سکے اُس وقت تک وُضو نہیں جاتا ، شیطان جب کہے: تیرا وُضو جاتا رہاتو دل میں جواب دیجئے کہ خبیث تُوجھوٹا ہے اور اپنی نَماز میں مشغول رہئے ،جیسا کہ حضرت سیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روا یت کرتے ہیں کہسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وُضُو جاتا رہا تو فوراً اسے دل میں جواب دے کہ تُو جھوٹا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے کانوں سے آواز نہ سن لے یااپنی ناک سے بُو نہ سونگھ لے ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حِبّان ج۴ص۱۵۳حدیث۲۶۵۶)
میں ناقِص میرا عمل ناقِص
میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :’’ اگر پھر بھی شیطان وَسوسہ ڈالے کہ تُو نے یہ عمل کامِل(یعنی پورا) نہ کیا،اس میں فُلاں نَقْص (یعنی عیب )رَہ گیا توشیطان سے کہہ دے کہ اپنی