صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 310پر صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’ اگر درمیانِ وُضو میں کِسی عُضْوْ کے دھونے میں شک واقِع ہواور یہ زندَگی کا پہلا واقِعہ ہے تو اس کو دھولے اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف اِلتِفات ( یعنی توجُّہ) نہ کرے۔ یوہیں اگر بعدِ وُضو شک ہے کہ وُضُو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضَرورت نہیں ۔ ہاں کرلینا بہتر ہے، جب کہ یہ شُبہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے، اِس صورت میں احتیاط سمجھ کر وُضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اِطاعت ہے۔‘ ‘
تو وُضو کے وسوسوں سے یا خدا مجھ کو بچا
ساتھ ظاہر کے مِرا باطن بھی ہو جائے صَفا
نَمازمیں وُضو ٹوٹنے کے وَسْوَسے
نماز میں شیطان کبھی وَسوسہ ڈالتا ہے کہ وُضو ٹوٹ گیا،کبھی پیشاب کا قطرہ نکلنے تو کبھی ریح خارِج ہو نے کا دل میں شُبہ ڈالتا ہے۔چُنانچِہ اس ضِمن میں میرے آقائے نعمت ، اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملّت، عاشقِ ماہِ نُبُوَّت ،پروانۂ شمعِ رسالت ، مولیٰنا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن چند احادیثِ مبارَکہ نَقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں : ان حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نَماز میں دھوکا دینے کے لئے کبھی انسان کی شَرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گُمان ہوتاہے،کبھی پیچھے پھونکتا ،یا بال کھینچتا