Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
26 - 59
وُضو شک ڈالتا ہے کہ فُلاں عُضْوْ دھُلنے سے رہ گیا، فُلاں عُضْوْ تین کے بجائے دو بار دھُلا ہے، اِسی طرح باوُضو شخص کو بھی وَسوَسہ ڈالتا ہے کہ تیرا وُضو ٹوٹ گیا، وُضو کیے ہوئے اِتنا اِتنا وقت گزر چکا ہے اب وُضو کہاں رہا ہوگا! وغیرہ وغیرہ، ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے کی طرف بالکل توجُّہ نہیں دینی چاہئے۔وُضومیں وَسوسے ڈالنے والے شیطان کے بارے میں شَہَنْشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ باقرینہ ہے :  وُضو کے لئے ایک شیطان ہے جس کانام ’’وَلْہَان‘‘ہے ،لہٰذاتم پانی کے وَسوَسوں سے بچو ۔ (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۱ ص۲۵۲حدیث ۴۲۱)
 رُومالی پر پانی چھڑکنا 
	اگر وُضُو کے بعد قطرے کا وہم پڑتا رہتا ہو تواِس وسوسۂ شیطانی سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وُضو کے بعد اپنے پاجامے یا شلوار کی رُومالی(یعنی شرمگاہ کے قریبی کپڑے )  پر پانی چھڑک لے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا : جب تُو وُضوکرے تو چھینٹا دے لے۔   ( اِبن ماجہ ج۱ ص۲۷۰ حدیث ۴۶۳)پھر اگر قطرے کا وسوسہ ہو تو خیال کرلیجئے کہ پانی جوچِھڑکا تھایہ اُس کا اثر ہے ۔ہا ں جس کو واقِعی قطرہ آتا ہے تو اُس کی بات جُدا ہے ۔
وُضو میں وَسوسَہ آئے تو کیا کرے؟ 
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  1250