رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی) اپنے ’’فتاوٰی ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے بعض ثِقَہ(یعنی قابلِ اعتِماد) لوگوں نے بیان کیا کہ ’’دووَسوسے والوں ‘‘کو نہانے کی ضَرورت ہوئی، دریائے نیل پر گئے، طُلُوعِ صُبح کے بعد پہنچے، ایک نے دوسرے سے کہا: تُو اُتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گاکہ پانی تیرے سارے سَر کو پہنچایا نہیں ۔ وہ اُترا اور غوطے لگانا شُروع کیے، اور یہ(یعنی جو باہَر ہے وہ) کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے، وہاں پانی نہ پہنچا، ایک کو صبح سے دوپَہَر ہوگئی، آخِر تھک کر باہَر آیا اور دل میں شک رہا کہ غُسل اُترا یا نہیں ؟ پھر اس نے دوسرے سے کہا کہ اب تُواُترمیں گِنوں گا۔ اُس نے ڈُبکیاں لگائیں اور یہ(پہلا) کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا،یہاں تک کہ دوپَہَر سے شام ہوگئی، مجبوراً وہ (دوسرا) بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شُبہے کا شُبہ ہی رہا۔ دن بھر کی نَمازیں کھوئیں ، اور غُسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہ تَعَالٰی( یعنی: ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں )یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔ (حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ج۲ ص۶۹۱)
مجھے وسوسوں سے بچا یا الہٰی
پئے غوث و احمد رضا یاالہٰی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
وُضو میں وَسَوسے
وَلہَان نامی شیطان ، وُضو کے بارے میں مختلف وسوسے دِلاتا ہے، مَثَلاً دورانِ