Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
24 - 59
نالی بھی ہو(اور فرش کا ڈھلوان یعنی slopeبھی صحیح ہو کہ پَیشاب وغیرہ سیدھا نالی میں جائے گا) تو (ایسی صورت میں )وہاں (چھینٹوں وغیرہ سے خود کو بچاتے ہوئے) پَیشاب کرنے میں حَرَج نہیں   اگر چِہ بہتر ہے کہ نہ کرے، لیکن اگر زمین کچّی(یا ناہموار) ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پَیشاب کرنا سخت بُرا ہے کہ زمین نَجِس ہو جائے گی ، اور غسل یا وُضُو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔ یہاں دوسری صورت ہی مُراد ہے اِس لیے تاکیدی مُمانَعَت فرمائی گئی ۔ یعنی اس سے وَسوسوں اور وَہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تجرِبہ ہے یا گندی چِھینٹیں پڑنے کا وَسوَسہ رہے گا۔ ( مراٰۃ ج ۱ ص ۲۶۶)
وَسوسے کی تباہ کاری کی حِکایت 
	میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد اوّلصَفْحَہ1043جُز’’ب‘‘پر وَسوَسے کابہترین علاج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وسوسے کی نہ سننا اُس پر عمل نہ کرنا اُس کے خلاف کرنا(بھی وسوسے کاعلاج ہے ) ۔ اس بلائے عظیم(یعنی وسوسے) کی عادت ہے کہ جس قَدَر اس (یعنی وسوسے) پر عمل ہو اُسی قَدَر بڑھے اور جب قَصداً اس کاخلاف کیا جائے تو بِاِذنِہٖ تعالٰی تھوڑی مدّت میں بالکل دَفع ہو جائے۔(حضرتِ سیِّدُنا)عَمروبن مُرّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’شیطان جسے دیکھتا ہے کہ میرا وَسوسہ اُس میں کارگر ہوتا ہے سب سے زیادہ اُسی کے پیچھے پڑتا ہے۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۲۴) امام ابنِ حَجَر مکّی(عَلَیْہِ