صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غُسل میں وسوسے
غُسل میں بھی شیطان شک پیدا کرتا ہے ، مثلاً کبھی وَسوسہ آتا ہے کہ شاید پیٹھ سُوکھی رہ گئی، شاید سر کے بال صحیح طرح نہیں دُھلے ، فُلاں عُضْوْ خشک رہ گیا ہے وغیرہ۔حالانکہ ایسا نہیں ہوتا، اگر اُس حصّے کو مَل کر اچّھی طرح دھولیا ہے تو شک میں پڑنے کی ضَرورت نہیں ۔
غسل میں وسوسے آنے کا ایک سبب
یاد رہے کہ غُسل خانے میں پیشاب کرنے سے وَسوَسے پیدا ہوتے ہیں ، لہٰذا اس سے بچا جائے،جیسا کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ کوئی غُسل خانے میں ہرگزپیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے گا، کیونکہ عام وَسوسے اِسی سے ہوتے ہیں ۔‘‘ (سُنَنِ ابوداوٗد ج۱ ص۴۴حدیث ۲۷)
حدیثِ پاک کی شَرْح
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 308 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’اسلامی بہنوں کی نَماز(حنفی)‘‘ صَفْحَہ201تا202پر ہے،مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّتحضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں :اگر غسل خانے کی زمین پختہ (یعنی پکّی)ہو اور اس میں پانی خارِج ہونے کی