بوڑھوں کو غصّہ دلوا کر شور مچوا دیتا ہے، معاذَاللہ بعضوں کو بدنگاہی ، بداَخلاقی ، غیبت و چغلی وغیرہ وغیرہ گناہوں میں پھنسا دیتا ہے، جنھیں گناہوں میں نہیں پھنسا پا تا انہیں نیکیوں کی کمی میں مبتَلا کر دیتا ہے اور اس کا توشاید ہر ایک کو تجربہ (تَج۔رِ۔بہ) ہو گا۔ مَثَلاًدرس و بیان کا سلسلہ ہو رہا ہے مگر مسجِد میں موجود ہونے کے باوُجُود بعض لوگ شرکت سے محروم دُور بیٹھے لاپرواہی کے ساتھ اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔جو لوگ مسجِد میں حاضِر ہونے کے باوُجُود یادِ الہٰی سے غافِل اور علمی حلقوں وغیرہ سے کاہِل رہتے ہیں وہ فتاویٰ رضویہ شریف میں بیان کردہ اِس حدیثِ پاک کو غور سے پڑھیں :حضرتِ سیّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم میں کوئی مسجد میں ہوتا ہے، شیطان آکر اُس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے ، جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام (یعنی فرمانبردارو مُطیع) کرنے کے لیے اُس پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ پس اگر وہ شخص ٹھہرا رہا (یعنی اس کے وَسو سے سے فوراً الگ نہ ہوگیا )تو اُسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتا ہے ۔ حضرتِ سیّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ (اس) حدیث کی تصدیق تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، وہ جو بندھا ہوا ہے اُسے تم دیکھو گے یوں جُھکا ہوا کہ ذکرِ الہٰی نہیں کرتا اور وہ جو لگام دیا ہوا ہے وہ مُنہ کھولے ہے اللہ تعالیٰ کا ذِکر نہیں کرتا۔[مُسندِ اِمام احمد،حدیث۸۳۷۸] (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد اوّل ص۷۷۱ تا ۷۷۲)
گندے گندے وساوِس آتے ہیں
میرے دل سے انہیں نکال آقا(وسائلِ بخش ص۲۰۹)