Brailvi Books

عُشر کے اَحکام
34 - 46
امام مسجد کو عشر د ینا
سوال:کیا اما م مسجد کو عشر دیا جاسکتا ہے؟

جواب:امام  صاحب اگر شرعی فقیر نہ ہوں یا سید صاحب ہوں تو ان کو عشر نہیں دیا جاسکتا اور اگر وہ شرعی فقیر ہوں اور سید زادے نہ ہوں تو اس کو عشر دیا جاسکتا ہے بلکہ اگر وہ عالم ہوں تو انہی کو دینا افضل ہے ۔ مگرعالم کو دیتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس کا احترام پیش ِنظر ہو اوردینے والا ادب کے ساتھ دے جیسے چھوٹے بڑوں کو کو ئی چیز نذر کرتے ہیں اور معاذ اللہ عزوجل عالم دین کو دیتے وقت اگر حقارت دل میں آئی تو یہ ہلاکت بلکہ بہت بڑی ہلاکت ہے۔

(بہارِ شریعت، حصہ ۵، ص۶۳)

     فتاوی عالمگیری میں ہے کہ''فقیر عالم پر صدقہ کر نا جاہل فقیر پر صدقہ کرنے سے افضل ہے ۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السابع فی المصارف،ج۱،ص۱۸۷)
سوال:امام مسجد کو بطور اجرت عشر دینا کیسا؟

جواب: امام مسجد کو (حیلہ شرعی کے بغیر)بطور اجرت عشر دینا جائز نہیں کیونکہ مسجد مصارف زکوۃ میں سے نہیں ہے اور عشر کے احکام وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں ۔
Flag Counter