Brailvi Books

عُشر کے اَحکام
32 - 46
رہا،یہ زکوٰۃ لے سکتا ہے اگر چہ اس کے گھر میں مال موجو دہو مگر اسی قدر لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے ،زیادہ کی اجازت نہیں ۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السابع فی المصارف ،ج۱،ص۱۸۸)
مدینہ (۱): صدر الشریعہ،بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں کہ'' جن لوگوں کی نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہیں زکوۃ دے سکتے ہیں ان سب کا فقیر ہونا شرط ہے سوائے عامل کے کہ اس کے لئے فقیر ہونا شرط نہیں اور ابن السبیل(مسافر) اگر چہ غنی ہو اس وقت فقیر کے حکم میں ہے باقی کسی کو جو فقیر نہ ہو زکوۃ نہیں دے سکتے۔ 

(بہارشریعت ،حصہ ۵،ص۶۳)

مدینہ(۲):زکو ۃ دینے والے کو اختیار ہوتاہے کہ چاہے تو عشرکوان تمام افراد میں تھوڑا تھوڑا تقسیم کردے اور اگر چاہے تو کسی ایک ہی کو دے دے ۔اگر مال ِزکوۃ اتنا ہے کہ بقدر ِنصاب نہیں ہے تو ایک ہی شخص کو دے دینا افضل ہے اوراگر بقدرِ نصاب ہے تو ایک ہی شخص کو دے دینا مکروہ ہے،لیکن زکو ۃ بہر حال ادا ہو جائے گی۔ ہاں اگر وہ شخص غارِم یعنی قرض دار ہے تو اس کو اتنا دے دینا کہ قرض نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے ،بلاکراہت جائز ہے ۔(بہارشریعت ،حصہ ۵،ص۵۹)
Flag Counter