Brailvi Books

عُشر کے اَحکام
31 - 46
(۱)کو ئی شخص محتاج ہے اور یہ جہاد میں جانا چاہتا ہے اس کے پاس سواری اور زادِراہ نہیں ہيں تو اسے مالِ زکوۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خدا عزوجل میں دینا ہے اگر چہ وہ کمانے پر قادر ہو ۔

(۲)کو ئی حج کے لئے جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس زادِراہ نہیں اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں لیکن اسے حج کے لئے لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ۔

(۳)طالب ِعلم ،علمِ دین پڑھتا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے اس کو بھی دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خداعزوجل میں خرچ کرنا ہے بلکہ طالب ِعلم سوال کر کے بھی مال زکوۃ لے سکتا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قدرت رکھتا ہو ۔

(۴)اسی طرح ہر نیک کام میں مالِ زکوۃ استعمال کرنا فی سبیل اللہ یعنی اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ مال زکوۃ (اور عشر)میں دوسرے کومالک کر دینا ضروری ہے، بغیر مالک کئے زکوۃ ادا نہیں ہو سکتی ۔

( الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب المصرف ،ج۳،ص۳۳۵ ) 

ابن سبیل:یعنی وہ مسافر (یہاں مسافر سے مراد شرعی مسافر ہے اور شرعی مسافر وہ ہے جو تقریباً 92کلو میٹر سفر کر نے کا ارادہ رکھتا ہو )جس کے پاس سفر کی حالت میں مال نہ