عامل:وہ ہے جسے بادشاہ اسلام نے زکو ۃ اور عشر وصول کرنے کے لئے مقرر کیا ہو ۔(المرجع السابق،ص۱۸۸)
مدینہ:صدر الشریعہ،بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں کہ'' عامل اگرچہ غنی ہواپنے کام کی اجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہو تو اس کو مال زکوۃ میں سے دینا بھی ناجائز اور اسے لینا بھی ناجائز ،ہاں اگر کسی اور مَد(یعنی ضمن)میں دیں تو لینے میں حرج نہیں ۔(لیکن فی زمانہ شرعی عامل موجود نہیں ہیں )
(بہارشریعت ،حصہ ۵،ص۵۷)
رِقاب:سے مراد مکاتب غلام ہے۔مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس سے اس کے آقا نے اس کی آزادی کے لئے کچھ قیمت ادا کرنا طے کی ہو ۔ فی زمانہ رِقاب موجودنہیں ۔(المرجع السابق)
غارِم:سے مراد مقروض ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد زکوٰۃ کا نصاب باقی نہ رہے اگر چہ اس کا دوسروں پر قرض باقی ہو مگر لینے پر قدرت نہ رکھتا ہو ۔(الدر المختار مع ردالمحتار،کتاب الزکوۃ ،باب المصر ف ،ج۳،ص۳۳۹)
فی سبیل اللہ:یعنی راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنا،اس کی چند صورتیں ہیں۔