Brailvi Books

عُشر کے اَحکام
29 - 46
وضاحت
فقیر:وہ جو مالک ِنصاب نہ ہو ۔مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا، یاساڑھے باون تولے چاندی، یا اتنی مالیت کی رقم، یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو ،یا اتنی مالیت کا ضروریاتِ زندگی سے زائد سامان ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ یا بندوں کا اتنا قرض نہ ہو کہ جسے ادا کر کے ذکرکردہ نصاب باقی نہ رہے ۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ ،الباب السابع فی المصارف ،ج۱،ص۱۸۷)
مدینہ: ضروریاتِ زندگی سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عمومًاانسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر ، پہننے کے کپڑے ، سواری ، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ ۔اللہ تعالیٰ کے قرض سے مراد سابقہ زکوٰۃ یا قربانی واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے کی صورت میں جانور کی قیمت صدقہ کرنا ہے ۔

مسکینـ:وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگو ں سے سوال کرے۔ (المرجع السابق)
Flag Counter