| عُشر کے اَحکام |
او ر لُوسے جاتی رہی توان سب صورتوں میں عشر ساقط ہے، جب کہ کل جاتی رہی اوراگرکچھ باقی ہے تو اس با قی کا عشر لیں گے اور اگرجانور کھا گئے تو (عشر)ساقط نہیں اور (عشر)ساقط ہو نے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعد اس سال کے اندر اس میں دوسری زراعت تیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کا ٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں ۔
(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ، ج۳،ص۳۲۳)
عشر کس کو دیاجائے
سوال:عشر کسے دیا جائے ؟ جواب:عشر چونکہ کھیت کی پیداوار کی زکوۃ کا نام ہے ،اس لئے جن کو زکوۃدی جاسکتی ہے ان کو عشر بھی دیا جاسکتا ہے۔
(الفتاوی الخانیہ،کتاب الزکوۃ،فصل فی العشر فی مایخرجہ الارض ،ج۱،ص۱۳۲)
ان لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے:
(۱)فقیر (۲)مسکین (۳)عامل (۴) رِقاب (۵)غارِم (۶)فی سبیل اللہ (۷)ابن السبیل یعنی مسافر۔(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ ،الباب السابع فی المصارف ،ج۱،ص۱۸۷)