| عُشر کے اَحکام |
سوال:عشر ادا کر نے میں تا خیر کرنا کیسا؟ جواب:عشر پیداوار کی زکوۃ کا نام ہے اس لئے جو احکام زکوۃ کی ادائیگی کے ہیں ،وہی احکام عشر کی ادائیگی کے بھی ہیں ۔اس لئے بغیر مجبوری کے اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار ہے اور اس کی شہادت (یعنی گواہی ) مقبول نہیں ۔
(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول ،ج۱،ص۱۷۰)
سوال:اگر کوئی عشر واجب ہو نے کے باوجود ادا نہ کرے تو کیا کرنا چاہے؟ جواب:جوخوشی سے عشرنہ دے تو بادشاہ اسلام جبراً (یعنی زبردستی)اس سے عشر لے سکتا ہے اور اس صورت میں بھی عشر ادا ہو جائے گا مگر ثواب کا مستحق نہیں اور خو شی سے ادا کرے تو ثواب کا مستحق ہے۔''
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ ،الباب السادس فی زکوۃ الزرع والثمار،ج۱،ص۱۸۵)
مدینہ :یاد رہے کہ زبردستی عشر وصول کرنا بادشاہِ اسلام ہی کا کام ہے عام لوگوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں اسے عشر اداکرنے کی ترغیب دی جائے اور رب تعالیٰ کی ناراضگی کا احساس دلایا جائے ۔ ایسے لوگوں کو یہ رسالہ پڑھنے کے لئے تحفۃً پیش کرنا بھی بے حد مفید ہوگا ،ان شاء اللہ عزوجل ۔