Brailvi Books

عُشر کے اَحکام
24 - 46
    (۴)پھلو ں کے ظاہر ہونے سے پہلے دیا تو پیشگی دیناجائز نہیں اورظاہر ہونے کے بعد دیا تو جائز ہے ۔(فتا وی عالمگیر ی ،کتاب الزکاۃ،ج ۱ ،ص ۱۸۶ )

مدینہ:اگرچہ ذکرکی گئی بعض صورتوں میں پیشگی عشر ادا کرنا جائز ہے لیکن افضل یہ ہے کہ پیداوار حاصل ہونے کے بعد عشر ادا کیا جائے ۔
(البحرالرائق،کتا ب الزکوۃ، ج۲،ص ۳۹۲)
پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے سے مراد
سوال:پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے سے کیا مراد ہے؟

جواب:اس سے مراد یہ ہے کہ کھیتی اتنی تیار ہوجائے اور پھل اتنے پک جائیں کہ ان کے خراب ہونے یا سوکھ جانے وغیرہ کا اندیشہ نہ رہے اگر چہ توڑ نے یا کاٹنے کے قابل نہ ہوئے ہو ں ۔
(ماخوذ از فتا وی رضویہ ،ج۱۰ ،ص۲۴۱)
پیداوار بیچ دی توعشرکس پر ہے؟
سوال:پھل ظاہر ہونے اور کھیتی تیار ہونے کے بعد پھل بیچے تو عشر بیچنے والے پر ہوگا یا خریدنے والے پر ؟

جواب:ایسی صورت میں عشربیچنے والے پر ہوگا ۔
        (ماخوذ از فتا وی رضویہ ،ج۱۰ ،ص۲۴۱)
Flag Counter