Brailvi Books

اُمھاتُ المؤمنین
43 - 57
    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :جاؤ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے لئے پیام دو۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچا اور کہا کہ تمہیں خوشی ہو کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دوں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی جب تک کہ میں اپنے رب عزوجل سے مشورہ نہ کرلوں ۔ پھر وہ اٹھیں اور مصلّے پر پہنچیں اور سر بسجود ہو کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا: اے خدا! تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے چاہا ہے اگر میں ان کی زوجیت کے لائق ہوں تو مجھے ان کی زوجیت میں دے دے۔ اسی وقت ان کی دعا قبول ہوئی اور یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔
فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان :پھرجب زید کی غرض اس سے نکل گئی توہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا۔(پ22،الاحزاب:37)
Flag Counter