حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم کوکسی حدیث کے بارے میں مشکل پیش آتی ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کرتے تو ان کے پاس اس کے متعلق علم پاتے۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل عائشۃ،الحدیث:۳۹۰۸،ج۵،ص۴۷۱)
برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقين صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم