جائے گا ليکن اس کی شرط يہ ہے کہ تم چاليس دن تک کسی بھی قسم کا نيک عمل نہیں کرو گے ، پہلے اس پر عمل کرو پھر ميرے پاس آنا ۔''
آپ نے اس شرط کو قبول کر ليا اورچاليس دن حسب ِشرط گزارنے کے بعد آپ اس کے پاس پہنچ گئے ۔اس نے جادو کرنا شروع کيا ، ليکن اس کا کوئی اثر مرتب نہ ہوا ۔کئی مرتبہ کوشش کرنے کے بعد اس نے کہاکہ ''ہو نہ ہو ، تم نے ان چاليس دنوں ميں کوئی نہ کوئی نيکی ضرور کی ہے ،ورنہ ميرا جادو کبھی ناکام نہ جاتا۔'' آپ نے فرمايا ''ويسے تو مجھے کوئی قابل ذکر چيز ياد نہيں ، ہاں ايک دن راستے ميں پڑے ہوئے پتھر کو اس خيال سے ايک طرف کر ديا تھاکہ کوئی مسلمان بھائی اس سے ٹکرا کر زخمی نہ ہو جائے ۔''يہ سن کر اس جادو گر نے کہا ''کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اس پرورد گا ر کی عبادت کو چھوڑ بیٹھے ہيں کہ جس نے آپ کے ايک معمولی سے عمل کو وہ شرف قبوليت بخشا کہ ميرا جادو مکمل طور پر ناکام ہو گيا ؟''اس بات سے آپ کے دل ميں ايک آگ سی لگ گئی ،فورا توبہ کی اور اللہ تعالی کی عبادت ميں مشغول ہو کر کچھ ہی عرصہ ميں درجہ ولايت پر فائز ہو گئے ۔(تذکرۃ الاولیائ،باب سی وھشتم ، ذکر ابو حفص حداد ، ج ۱ ، ص ۲۷۶)