پیارے اسلامی بھائیو! توبہ کے بعدگناہوں کی طرف میلان ہونا یقینا بہت بڑی آزمائش ہے ۔ انسان کو چاہيے کہ اس میلان پر قابو پانے کے لئے اپنے گناہوں کو پیش ِ نظر رکھے اوردل میں ندامت کی آگ کو جلائے رکھے ،اس کی تپش نفس کی خواہشات کا قلع قمع کردے گی ،ان شاء اللہ عزوجل۔اس سلسلے میں اکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو ،۔۔۔۔۔۔
حضرت سیدنا بایزید بسطامی ص ایک رات اپنے گھر کی چھت پر پہنچے اور دیوار کو تھام کر پوری رات خاموش کھڑے رہے جس کی وجہ سے آپ کے پیشاب میں خون آنے لگا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ،'' دوچیزوں کی وجہ سے ، ایک یہ کہ آج میں خدال کی عبادت نہ کرسکا ،دوسری یہ کہ بچپن میں مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تھا ، چنانچہ میں ان دونوں چیزوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ میرا دل خون ہوگیا اور پیشاب کے راستے سے خون آنے لگا ۔''