باندھئے۔(کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس لِلشَّیْخ عبدالْحَقّ الدّھلَوی ص۳۸){13-12}عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو، نہ چھ گز سے زیا دہ اور اس کی بندِش گنبد نُما ہو۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۲ص۱۸۶){15-14}رومال اگربڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جوسرکوچھپالیں تووہ عمامہ ہی ہوگیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف دوایک پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہج۷ص ۲۹۹) {16} اگرضرورتاً اتارا اور دوبارہ باندھنے کی نیّت ہوئی تو ایک ایک پیچ کھولنے پر ایک ایک گناہ مٹا یا جائیگا(مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۶ص ۲۱۴) {17} مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلَوی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی فر ما تے ہیں : دَسْتارمُبارَک آنْحَضرَت صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ والہ وسلَّم دَر اَکْثَر سَفَیْد بُوْد وَگاہَے سِیا ہ اَحیا ناً سَبْز۔ نبیِّ اکرم کا عمامہ شریف اکثر سفید ،کبھی سیا ہ اور کبھی سبز ہوتا تھا۔(کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس ص۳۸دار احیا ء العلوم باب المدینہ کراچی)