قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے کہ وہ شدّت سے اِنتظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یا کسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ دنیا ومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے) سے بہتر ہوتی ہے۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ قبر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقین کی طرف سے ہَدِیّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے، زندوں کا ہدیّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے ’’دعائے مغفرت کرنا ہے‘‘۔( شُعَب الاِْیمان ج۶ص۲۰۳حدیث۷۹۰۵){۲} طَبَرانِی میں ہے:’’ جب کوئی شخص میِّت کو اِیصال ثواب کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام اسے نُورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کَنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’ اے قبر والے ! یہ ہَدِیّہ (تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قَبول کر۔‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔( اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط لِلطَّبَرانِیّ ج۵ ص۳۷ حدیث۶۵۰۴ دار الفکر بیروت)
قبر میں آہ! گھپ اندھیرا ہے
فضل سے کردے چاندنا یا رب!