دوسرے کی کتاب پر رکھ سکتے ہیں اور ان سے اوپر عِلمِ کلام کی کتابیں رکھی جائیں ان کے اوپرفِقْہ اور احادیث و مَوَاعِظ و دعواتِ ماثُورہ (یعنی قراٰن واحادیث سے منقول دعائیں ) فِقہ سے اوپر اور تفسیر کو ان کے اوپر اور قراٰنِ مجید کو سب کے اوپر رکھئے۔ قرآن مجید جس صَندُوق میں ہو اس پر کپڑاوغیرہ نہ رکھا جائے۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۵ص۳۲۳۔۳۲۴ ) {۴} کسی نے محض خیرو بَرَکت کے لیے اپنے مکان میں قراٰنِ مجید رکھ چھوڑا ہے اور تلاوت نہیں کرتا تو گناہ نہیں بلکہ اس کی یہ نیّت باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی قاضی خان ج۲،ص۳۷۸) {۵}بے خیا لی میں قراٰنِ کریم اگر ہاتھ سے چُھوٹ کر یا طاق وغیرہ پر سے زمین پر تشریف لے آیا (یعنی گڑ پڑا) تو نہ گناہ ہے نہ کوئی کفّارہ {۶}گستاخی کی نیّت سے کسی نے معاذاللہعَزَّوَجَلَّ قراٰنِ پاک زمین پر دے مارا یا بہ نیّتِ توہین اِس پر پاؤں رکھ دیا تو کافِر ہو گیا {۷}اگر قراٰنِ مجید ہاتھ میں اٹھا کر یا اس پر ہاتھ رکھ کرحَلَف یا قَسَم کا لفظ بول کر کوئی بات کی تو یہ بَہُت ’’سخت قَسَم‘‘ ہوئی اور اگرحَلَف یا قَسَم کالفظ نہ بولا تو صِرف