Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
35 - 49
لگاکرچَھت بناکرمِٹّی ڈالیں کہ اس پرمِٹّی نہ پڑے، مُصْحَف شریف پُرانا ہوجائے تواُس کوجَلایا نہ جائے۔( بہارِ شریعتحصّہ ۱۶ ص۱۳۸ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی){۲} مُقَدَّس اَوْرَاقکم گہرے سَمُندر،دریا  یا  نہرمیں نہ ڈالے جائیں کہ عُمُوماً بہ کر کَنارے پر آجاتے اور سخت بے ادبیا ں ہوتی ہیں ۔ٹھنڈا کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ کسی تھیلی یا  خالی بوری میں بھر کر اُس میں وَزنی پتّھر ڈالدیا  جائے نیز تَھیلی یا  بوری پرچند جگہ اس طرح چِیرے لگائے جائیں کہ اُس میں فوراً پانی بھر جائے اور وہ تہ میں چلی جائے ورنہ پانی اَندر نہ جانے کی صُورت میں بعض اَوقات مِیلوں تک تَیرتی ہوئی کَنارے پَہُنچ جاتی ہے اور کبھی گنوار یا  کُفّار خالی بوری حاصِل کرنے کے لالَچ میں مُقَدَّس اَوراق کَنارے ہی پر ڈھیرکر دیتے ہیں اور پھراِتنی سخْت بے اَدَبِیا ں ہوتی ہیں کہ سُن کر عُشّاق کا کلیجہ کانپ اُٹھے! مُقَدَّس اَوراق کی بوری گہرے پانی تک پَہُنچانے کیلئے مسلمان کشتی والے سے بھی تعاوُن حاصِل کیا  جاسکتا ہے مگر بوری میں چِیرے ہر حال میں