مَدنی التجاء ہے کہ سرِورق(TITLE)کے چاروں صفحوں میں سے کسی بھی صفحے پر آیا تِ مبارَکہ یا ان کے ترجَمے نہ چھاپاکریں کہ کتاب یا رسالہ لیتے اُٹھاتے ہوئے بے شمار مسلمان بے خیا لی میں بے وُضو چُھونے میں مُبتلا ہو سکتے ہیں ۔ اس ضِمن میں میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہِ رَحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ393 پر فرماتے ہیں :آیۃ کریمہ کو اخبار کی طَبلَق (یعنی اخبار یا رسالے کے بنڈل،پُلندے یا گڈّی کے گرد لپٹے ہوئے کاغذ) یا کارڈ یا لِفافوں پر چھپوانابے ادَبی کو مُستَلزِم(یعنی لازم کرتا) اور حرام کی طرف مُنْجِر(یعنی لے جانے والا) ہے اُس پر چٹھی رَسانوں (یعنی ڈاکیوں ) وغیرہم بے وُضو بلکہ جُنُب(یعنی بے غسل) بلکہ کُفّار کے ہاتھ لگیں گے جو ہمیشہ جُنُب(یعنی بے غسلے) رہتے ہیں اوریہ حرام ہے۔قال تعالیٰ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹)(ترجَمۂ کنزالایمان: اسے نہ چھوئیں مگر باوُضو)مہریں لگانے کے لئے زمین پر رکھے جائیں گے پھاڑ کر ردّی میں پھینکے جائیں گے ان