Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
23 - 49
 کہے، پھر اَللّٰہُ اَکْبَر کہتاہوا کھڑا ہو جائے، پہلے پیچھے دونوں بار اَللّٰہُ اَکْبَرکہنا سنّت ہے اور کھڑے ہو کر سجدے میں جانا اور سجدے کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قِیا م مُسْتَحَب۔(دُرِّمُختارج۲ ص۶۹۹){۸} سجدۂ تلاوت کے لئے اَللّٰہُ اَکْبَرکہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے نہ اس میں تَشَہُّد(یعنی اَلتَّحِیا تُ )ہے نہ سلام۔ (تَنْوِیرُ الْاَبْصَا رج ۲ ص۷۰۰){۹}اس کی نیّت میں یہ شرط نہیں کہ فُلاں آیت کا سجدہ ہے بلکہ مُطلَقاً سجدۂ تلاوت کی نیّت کافی ہے۔(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتارج۲ ص۶۹۹){۱۰} آیتِ سجدہ بَیرونِ نماز(یعنی نماز کے باہَر) پڑھی تو فوراً سجدہ کر لینا واجِب نہیں ہاں بہتر ہے کہ فوراً کر لے اور وُضو ہو تو تاخیر مکروہِ تنزیہی۔ (دُرِّمُختارج۲ص۷۰۳) {۱۱}اُس وقت اگر کسی وجہ سے سجدہ نہ کرسکے تو تلاوت کرنے والے اور سامِع(یعنی سننے والے) کو یہ کہہ لینا  مُسْتَحَبہے: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) (ترجَمۂ کنزالایمان:ہم نے سُنا