عالمگیری ج۱ص۱۳۳ کوئٹہ) {۳} پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز میں ہو کہ اگر کوئی عُذر نہ ہو تو خود سُن سکے۔(بہارِ شریعتج۱حصّہ ۴ ص۷۲۸){۴} سننے والے کے لئے یہ ضَروری نہیں کہ بِالقَصد (یعنی ارادۃً)سُنی ہو،بِلاقَصد (یعنی بِلا ارادہ ) سُننے سے بھی سجدہ واجِب ہو جاتا ہے۔ (الہِدایہ ج ۱ ص۷۸){۵}اگر اتنی آواز سے آیت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرہ ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجِب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔(فتاوٰی عالمگیری ج۱ص۱۳۲) {۶} سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھناضَروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدے کا مادَّہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔(رَدُّالْمُحتارج ۲ ص۶۹۴) {۷}سَجدۂ تِلاوت کا طریقہ:سجدے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللّٰہُ اَکْبَر کہتا ہوا سجدے میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی