سبحٰنَ اللّٰہ !ایک طرف نیکیا ں چھپانے والے وہ مخلِص صالِح انسان اورآہ! دوسری طرف اپنی نیکیوں کا بڑھا چڑھا کرڈھنڈورا پیٹنے والے ہم جیسے اِخلاص سے عاری نادان! کہ اوّل تو نیکی ہو نہیں پاتی ہے کبھی ہو بھی گئی توریا کاری لاگو پڑجاتی ہے ۔ ہائے ! ہائے! ؎
نفسِ بدکار نے دل پر یہ قِیا مت توڑی
عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قراٰنِ کریم کے حُرُوف کی دُرُست مَخَارِج سے ادائیگی اور غلط پڑھنے سے بچنا فرضِ عین ہے
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمدرضا خان علیہ رحمۃالرحمن فرماتے ہیں :’’بِلاشُبہ اتنی تجوید جس سے تَصحِیحِ (تَص۔حِی ۔ حِ ) حُروف ہو(یعنی قواعدِ تجویدکے مطابِق حُرُوف کودُرُست مخارِج سے ادا کر سکے)، اورغَلَط خوانی(یعنی غلط پڑھنے) سے بچے، فرضِ عَین ہے۔(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ج۶ ص ۳۴۳ )