صاحِبہ نے فرمایا :اس کے ابّو(حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن طُوسیعلیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی) اس کمرے میں داخِل ہو کر تلاوتِ قراٰن کرتے ہیں اور روتے ہیں تو یہ بھی ان کی آواز سن کر رونے لگتا ہے!شیخ ابو عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن طُوسیعلیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی(ریا کاریوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کی خاطِر) نیکیا ں چھپانے کی اِس قَدَر سعی فرماتے تھے کہ اپنے اُس کمرۂ خاص سے عبادت کرنے کے بعد باہَرنکلنے سے پہلے اپنا منہ دھوکر آنکھوں میں سُرمہ لگالیتے تاکہ چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر کسی کو اندازہ نہ ہونے پائے کہ یہ روئے تھے!(حلیۃ الاولیا ء ج۹ ص۲۵۴) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مِرا ہر عمل بس ترے واسِطے ہو
کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد