ہے(اَیضاً ) {۱۶} قراٰنِ مجید سُننا، تلاوت کرنے اورنَفل پڑھنے سے افضل ہے (اَیضاً ص ۴۹۷) {۱۷} جو شخص غَلَط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجِب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حسد پیدا نہ ہو۔ (اَیضاًص۴۹۸) {۱۸} اسی طرح اگر کسی کا مُصْحف شریف (قراٰنِ پاک )اپنے پاس عارِیَت (یعنی وقتی طور پر لیا ہوا) ہے، اگر اس میں کِتابت کی غَلَطی دیکھے، (تو جس کا ہے اُسے ) بتا دینا واجِب ہے۔ (بہارِشریعتج۱حصّہ ۳ ص۵۵۳ ) {۱۹} گرمیوں میں صبح کو قراٰنِ مجید ختم کرنا بہتر ہے اورسردیوں میں اوّل شب کو کہ حدیث میں ہے: ’’جس نے شروع دن میں قراٰن ختم کیا ، شام تک فرِشتے اس کے لیے اِستِغفار کرتے ہیں اور جس نے اِبتِدائے شب میں ختم کیا ، صبح تک اِستِغفار کرتے ہیں ۔‘‘ گرمیوں میں چُونکہ دن بڑا ہوتا ہے تو صبح کے وَقت ختم کرنے میں اِستِغفارِ ملائکہ زیا دہ ہوگی اور جاڑوں (یعنی سردیوں ) کی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو شروع رات میں ختم کرنے سے اِستِغفار زیا دہ ہوگی۔(غُنْیَۃُ