Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
14 - 49
 اُس وقت فَقَط اتنی آواز سے تلاوت کیجئے کہ صرف آپ خود سن سکیں برابر والے کو آواز نہ پہنچے {۱۲} بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو گناہ پڑھنے والے پر ہے اگر کام میں مشغول ہونے سے پہلے اِس نے پڑھنا شروع کر دیا  ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے لیے مقرَّر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اِس نے شروع کیا  اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اِس نے پڑھنا شروع کیا ، تو اِس(یعنی پڑھنے والے) پر گناہ(غُنْیَۃُ المُتَمَلّیص۴۹۷) {۱۳}جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھا رہا ہے یا  طالبِ علم علمِ دین کی تکرار کرتے یا  مُطالَعَہ دیکھتے ہوں ، وہاں بھی بلند آواز سے پڑھنا منع ہے۔ (اَیضاً  ){۱۴} لیٹ کر قراٰن پڑھنے میں حرج نہیں جبکہ پاؤں سِمٹے ہوں اور منہ کُھلا ہو، یوہیں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے، جبکہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔  (اَیضاً ص۴۹۶) {۱۵}  غسل خانے اورنَجاست کی جگہوں میں قراٰنِ مجید پڑھنا، ناجائز