Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
13 - 49
352پرمیرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :قراٰنِ مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سُننا اور خاموش رہنا فرض ہے۔قالَ اللّٰہُ تعالٰی  (اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ) وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)(پ۹ الاعراف ۲۰۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اورجب قراٰن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو){۹} جب بلند آواز سے قراٰن پڑھا جائے تو تمام حاضِرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع  سُننے کے لئے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے، اگرچِہ اور (لوگ) اپنے کام میں ہوں ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۲۳ص۳۵۳  مُلَخَّصاً) {۱۰} مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں ۔  (بہارِشریعتج۱حصّہ ۳ص۵۵۲) {۱۱}مسجِدمیں دوسرے لوگ ہوں ، نَماز یا اپنے وِرد ووظائف پڑھ رہے ہوں