Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
12 - 49
نہ پڑھے یہ مَحض غَلَط ہے (اَیضاًص۵۵۱){۴}  باوُضُو، قِبلہ رُو، اچّھے کپڑے پہن کر تِلاوت کرنا مُسْتَحَبہے   (اَیضاًص۵۵۰){۵} قراٰنِ مجیددیکھ کر پڑھنا، زَبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ یہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور ہاتھ سے اس کا چُھونا بھی اور یہ سب کام عِبادت ہیں ۔(غُنْیَۃُ المُتَمَلّیص۴۹۵){۶} قراٰنِ مجید کو نہایت اچّھی آواز سے پڑھنا چاہیے، اگرآواز اچّھی نہ ہو تو اچّھی آواز بنانے کی کوشش کرے،مگر لَحن کے ساتھ پڑھنا کہ حُرُوف میں کمی بیشی ہوجائے جیسے گانے والے کیا  کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، بلکہ پڑھنے میں قواعِدِ تَجوید کی رعایت کیجئے  (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۹،ص۶۹۴){۷} قراٰنِ مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ کسی نَمازی یا  مریض یا  سوتے کو اِیذا نہ پہنچے۔ (غُنْیَۃُ المُتَمَلّی ص ۴۹۷) {۸}جب قراٰنِ پاک کی سورَتیں یا  آیَتیں پڑھی جاتی ہیں اُس وقت بعض لوگ چپ تو رہتے ہیں مگر اِدھر اُدھر دیکھنے اور دیگر حرکات و اشارات وغیرہ سے باز نہیں آتے،ایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ چپ رہنے کے ساتھ ساتھ غور سے سننا بھی لازِمی ہے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 صَفْحَہ