Brailvi Books

تلاوت کی فضیلت
11 - 49
’’قراٰن تمام ہی کُتُب سے افضل ہے‘‘کے اکیس حُرُوف کی نسبت سے تِلاوت کے 21مَدَنی پھول 
	{۱}امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح   قراٰنِ مجیدکو چُومتے تھے اور فرماتے:’’ یہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ   کا عہد اور اس کی کتاب ہے۔‘‘(دُرِّمُختار ج ۹  ص۶۳۴ دار المعرفۃ بیروت){۲} تلاوت کے آغاز میں اعوذُپڑھنا  مُسْتَحَب ہے اور ابتِدائے سورت میں بسم اﷲ سنّت، ورنہ مُسْتَحَب( بہارِ شریعتج۱حصّہ ۳ ص ۵۵۰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی ) {۳}سورۂ براءَت(سورۂ توبہ )سے اگر تلاوت شروع کی تو  اَعُوْذُ بِاللّٰہ (اور) بِسْمِ اللہ (دونوں )کہہ لیجئے اور جو اس کے پہلے سے تلاوت شروع کی اور سورۂ توبہ (دورانِ تِلاوت ) آگئی تو تَسْمِیہ (یعنی بِسْمِ اللہ شریف)پڑھنے کی حاجت نہیں ۔ اور اس کی ابتِدا میں نیا  تَعَوُّذ (تَعَوْ ۔ وُذ )جو آج کل کے حافِظوں نے نکالا ہے، بے اَصل ہے اور یہ جو مشہو ر ہے کہ سورۂ توبہ  ابتِداء ً بھی پڑھے جب بھی  بِسْمِ اللہ