میں نمازوں کی پابندی سے غافل تھی ۔نت نئے فیشن اپنانے اورفلمی گانے سننے کی تواتنی شوقین تھی کہ ہیڈ فون لگا کر بعض اوقات ساری ساری رات گانے سننے میں برباد کر دیتی!T.V.کی تباہ کاریوں نے مجھے بَہُت بری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ، چُنانچِہ میں فلمیں ڈِرامے دیکھنے کی خوب ہی رَسیا تھی، بِالخصوص ایک گُلوکار کے گانوں کی تو اِسقدر دیوانی تھی کہ میری سَہَیلیاں مذاقاًکہا کرتی تھیں کہ یہ تومرتے وقت بھی اسی گُلوکار کو یاد کرتے ہوئے دم توڑے گی!صدکروڑ افسوس کہ اگر میں اُس گُلوکار کا کوئی شَو (پروگرام)نہ دیکھ پاتی تو رو رو کربُرا حال کر لیتی یہاں تک کہ کھانابھی چھوٹ جاتا!اَلغرض میرے صبح وشام یونہی گناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔میری مُمانی دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کیا کرتی تھیں۔وہ مجھے بھی اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتیں مگر میں ٹال دیتی ۔ ان کی مسلسل انفِرادی کوشش کے نتیجے میں بالآخِر مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہو ہی گئی،اجتِماع میں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان، ذِکرُاللہ عَزَّوَجَلَّ اور رِقّت انگیز دُعا نے مجھ پر بَہُت گہرا اثر ڈالا ۔ ایک حلقہ ذِمّہ دار اسلامی بہن مجھ پر بڑی شَفقَت فرماتیں اور مجھے گھر سے بُلا کر