جیسا کہ گزرا کہ سلف صالحین قدس سرھم کی طرح امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے قلبِ مبارَک میں بھی امت کی خیر خواہی کا دریائے بیکراں موجزن ہے۔اوائل میں آپ دامت برکاتہم العالیہ گھروں اور اسپتالوں میں جاکر مریضوں کودم کرتے اور تعویذات عنایت فرماتے تھے۔تقریباً 1972میں باب المدینہ (کراچی) میں آنکھوں کی ایک پُراسرار بیماری پھیلی، اس سے شاید ہی کوئی محفوظ رہا ہو۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ نے مریضوں کی آنکھوں پر فی سبیل اﷲ دَم کرنا شروع کردیا، اﷲعزوجل کے کرم سے لوگ صحت یاب ہونے لگے ، یہاں تک کہ اخبار میں نمایاں طور پر یہ خبر شائع ہوئی کہ آنکھوں کی پُراسرار بیماری جس کے علاج میں ڈاکٹرناکام ہوچکے ہیں وہ محمد الیاس قادری(دامت برکاتہم العالیہ) نامی ایک شخص کے دَم سے ٹھیک ہونے لگی ہے۔ پھر کیا تھا لوگ دور دور سے آنے لگے اور مریضوں کی قطاریں لگ جاتیں اور آپ دامت برکاتہم العالیہ باری باری دَم فرماتے۔