Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
76 - 88
میں گرتا چلاجا رہا تھا، گلشن ِاسلام پر خَزاں کے بادل مَنڈلا رہے تھے۔ ان نازُک حالات میں قبلہ شیخِ طریقت ، امیر اہلسنت، بانئ دعوتِ اسلامی ، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری مَحسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کویہ ذہن دینا شروع کیا کہ ''مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ''یہاں تک کہ آپ نے  ۱۴۰۱ ؁ھ میں ''دعوتِ اسلامی'' جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے مَدَنی کام کا آغاز فرما دیا۔ الحمدللہ عزوجل !یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر) دنیا کے66 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں ، مختلف ممالک میں کُفار بھی مُبَلِّغینِ دعوتِ اسلامی کے ہاتھوں مُشَرَّف بہ اسلام ہوتے رَہتے ہیں۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی جہدِمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مدَنی انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز سبز عمامے کے تاج اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں ۔
    امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے منفرد اور تاریخی کام کا بیّن ثُبوت یہ ہے کہ امتِ محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جن شعبوں کی حاجت تھی ،آپ ان شعبوں کو قائم کرنے میں مصروف ہو گئے اور آج الحمدللہ عزوجل! ان میں سے کئی شعبہ جات میں کام شروع ہوچکا ہے، مَثَلاً
Flag Counter