Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
66 - 88
پاکستان میں منانے کی حامی بھر لی لیکن عید سے صرف چند روز پہلے ای میل کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا :''شبِ جمعہ ( ۸ ذوالحجۃ الحرام ۱۴۲۴ھ) کو پر واز تھی ، بدھ کو دل میں ہلچل پیدا ہوگئی ۔ میں نے بہت غور کیا اوراس نتیجے پر پہنچا کہ میں عید باب المدینہ میں آکر دھوم دھام سے خوب رو نق بھرے ماحول میں بچوں ، گھر والوں اور کثیر اسلامی بھائیوں کے ساتھ مناؤں ۔ باب المدینہ آنے میں نفس کی پیروی ہے اور امارات میں رہ کر تحریری کام کرنے میں آخرت کی بہتری ، باب المدینہ میں عوام کی بھیڑ میں گناہوں کی کثرت اور امارات میں تنہائی کے باعث معا صی سے کافی بچت، عوام کی گہماگہمی میں زبان وآنکھ کی حفاظت نہایت ہی مشکل جبکہ امارات میں اپنے گھر پر زبان اور آنکھوں کا قفل مدینہ الحمد للہ عزوجل کافی حد تک حاصل ۔ سو چا فی الحال باب المدینہ میں جاکر سوائے نفس کو خوش کر نے کے کسی دین کے اہم کام کو سر انجام دینے کی بظاہر کوئی صورت سامنے نہیں ہے ، قربانی کے دن ہیں ، اور ظاہر ہے قربانی وہی ہے جو نفس کوگراں گزرے ، لہٰذا! نفس کی قربانی دینا ہی مناسب ہے ،لہٰذا! آخِرت کی بہتری پر نظر رکھتے ہوئے میں نے باب المدینہ آنے کا ارادہ ملتوی کردیا ہے ۔
وقت کم کام بہت زیادہ:
     دسمبر2002؁ میں راجپوتانہ ا َسپتال(حیدرآباد، باب الاسلام سندھ) میں امیرِاَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کاآپریشن تھا۔ آپ نے آپریشن تھیٹر میں جانے کیلئے لباس پہن لیا، مگر پھر اطّلاع ملی کہ ابھی ایک گھنٹہ مزید تاخیر ہوگی۔آپ سے عرض کی گئی کہ کچھ دیر آرام فرمالیجئے ،مگرآپ نے ارشاد فرمایا: ''وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔'' یہ فرماکر آپ تحریری کام میں مصروف ہوگئے۔
Flag Counter