Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
64 - 88
سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئے :
    الحمد للہ عزوجل ! جشن ولادتِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سلسلے میں ربیع النورشریف کی ۱۲ ویں شب، دعوت اسلامی کی طرف سے باب المدینہ (کراچی) میں بہت بڑے اجتماع ِ ذکر ونعت کا انعقاد کیا جاتا ہے جوغالباً اس وقت روئے زمین کا سب سے بڑا اجتماعِ ذکرو نعت ہوتا ہے۔ ربیع النور شریف  ۱۴۱۸؁ھ کی ۱۲ ویں رات ۱۲ بجے جب بانئ دعوتِ اسلامی امیر اہلسنت مدظلہ العالی اجتماع میں بیان کرنے کیلئے پہنچے تو تلاوت شروع ہوچکی تھی۔لہٰذاآپ منچ (اسٹیج )پر جلوہ گر ہوکر حاضرین کے سامنے آنے کی بجائے منچ کی سیڑھیوں پرہی بیٹھ کر تلاوت سننے میں مشغول ہوگئے۔تلاوت ختم ہونے کے بعد جب کسی نے عرض کی کہ'' آپ براہ راست منچ پر تشریف لانے کے بجائے اس کی سیڑھی پر بیٹھ گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟''تو ارشاد فرمایا: قرآن پاک میں ہے کہ
'' وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾ ۔
ترجمہ کنز الایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔''(پ۹،الاعراف :۲۰۴)
اور ۔۔۔۔۔۔    ''فتاویٰ رضویہ''
 (ج۲۳، ص۳۵۳)
میں ہے ، ''جب بلند آواز سے قرآن پاک پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو، ورنہ ایک کا سننا کافی ہے اگرچہ دوسرے لوگ کام میں ہوں۔'' 

    پھر فرمایا:''جب میں حاضر ہوا تو تلاوت جاری تھی، اب اگر میں سیدھا منچ پر چلا جاتا تو خدشہ تھا کہ کوئی اسلامی بھائی استقبالی نعرہ لگا دیتا اور دوران ِتلاوت ایسا ہر گز
Flag Counter