| تعارف امیرِ اہلسنّت |
پروانۂ شمعِ رسالت ، مجدّد دین و ملت مولیٰنا شا ہ اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے متعارف ہوچکا تھا ۔پھر جُوں جُوں شُعور آتا گیا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔میں بِلاَ خوفِ تردید ،کہتا ہوں کہ ربُّ العُلیٰ کی پہچان، میٹھے میٹھے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے ہوئی ۔ تو مجھے میٹھے میٹھے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پہچان امام اَحمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن کے سبب نصیب ہوئی ۔''
اعلیٰ حضرت رضي اللہ عنہ سے ہمیں تو پیار ہے ان شآء اللہ عزوجل اپنا بیڑا پارہے
پہلارسالہ:
اسی عقیدت کا صدقہ ہے کہ آپ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی زندگی کا پہلا مدنی رسالہ بھی اعلی حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے متعلق لکھا جس کا نام ''تذکرۂ امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ'' ہے ۔آپ دامت برکاتہم العالیہ ہی کا شعر ہے :
تُونے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا رضی اللہ عنہ دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمد رضا رضی اللہ عنہ
بریلی شریف کی پہلی بارحاضری :
جب امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ پہلی بار مدینۃ المرشد بریلی شریف پہنچے تو جب تک قیام رہاآپ ادباًبرہنہ پا رہے اور جب امامِ اہلِسنّت اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کے مزارِ مبارک پر حاضری کا وقت آیاتو دیکھنے والوں کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں کہ آپ زمین پر لوٹتے ہوئے مزارِ مبارک پر حاضر ہوئے۔دورانِ حاضری