| تعارف امیرِ اہلسنّت |
جب رمضان شریف کا پُربہار مہینہ تشریف لاتا ہے توامیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی خوشی کا عالم دیدنی ہوتا ہے ۔ آپ کے جذبات کی عکاسی ان اشعار سے ہوتی ہے :
مرحبا صَد مرحبا پھرآمدِ رمضان ہے کھِل اٹھے مُرجھائے دل تازہ ہُوا ایمان ہے ہم گنہگاروں پہ یہ کتنا بڑا اِحسان ہے یاخدا عزوجل تُونے عطا پھرکردیا رَمَضان ہے ہر گھڑی رَحْمت بھری ہے ہرطرف ہیں برکتیں ماہِ رمضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے یاالہٰی !عزوجل تومدینے میں کبھی رمضاں دکھا مدتوں سے دل میں یہ عطارؔ کے ارمان ہے
اَلوداع ِرمضان:
۱۴۰۳ھ کا واقعہ ہے کہ امیر اہلسنت دامت برکا تہم العا لیہ کثیر اسلامی بھائیوں کے ساتھ معتکف تھے۔ انتیسواں روزہ افطار کرنے کے بعد نمازِمغرب سے فارغ ہوکر سرجھکائے بیٹھے تھے اتنے میں کسی نے آکر آپ دامت برکا تہم العا لیہ سے عرْض کیا : ''مبارَک ہو عیدُالفطر کا چاند نظر آگیا '' یہ سنّتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور بے اختیار آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے پھر روتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ افسوس رَحمتوں اور بَرَکتوں کا مبارَک مہینہ ہم سے جدا ہوگیا لیکن ہم رَمَضانُ المبارَک کی قدر نہ کرسکے ،پھر روتے ہوئے اپنی پُر سوز آواز میں ماہ رَمَضانُ المبارَک کے متعلق اَلوَداعِیہ اشعار پڑھے ، سینکڑوں لوگ جوامیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی زیارت و ملاقات کے لئے حاضر تھے وہ بھی اشکبار ہوگئے کافی دیر تک آپ دامت برکاتہم العالیہ گریہ و زاری فرماتے رہے ۔