امیرِاَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ایک باراپنے سنّتوں بھرے بیان ''جانوروں کو ستانا حرام ہے'' میں ضمناً فرمایا کہ میں ایک دن اپنے گھر سے نماز ظہر کیلئے نکلا تو دیکھا کہ اپنی گلی کے تھوڑے فاصلے پر ایک بیمار گدھا پڑا ہے ۔ اس میں اٹھنے کی سکَت نہ تھی،بے چارے کی گردن پر خارش کے باعث زخْم ہوگیا تھا۔ جس کے سبب اس نے گردن کو زمین سے اوپر اٹھا رکھا تھا، گردن میں تکلیف بڑھنے پر جیسے ہی گردن زمین پر رکھنا چاہتا تو تکلیف کے باعث دوبارہ گردن اٹھالیتا، وہ انتہائی تکلیف اور بے بسی کے عالم میں مبتلا تھا۔میں نے جب اُس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اُس پر بہت رحم آیا کہ یہ (بے زبان) جانور ہے کس سے فریاد کرے۔ بہرحال میں نے اپنے گھر سے ایک پُرانی گدڑی منگوالی اور اس کی گردن کے نیچے رکھ دی(تاکہ زمین کی سختی کی تکلیف سے اس کو نجات ملے ) ایسا کرنے سے اسے فی الواقع تسکین ہوئی، اور اس نے اپنی گردن سے گدڑی پر ٹیک لگالی، آپ مانيں یا نہ مانیں،وہ مجھے سر اٹھا کر شکریہ بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔