کو لمبو پہنچ کر اس نے کیسٹ ٹیپ ریکا رڈ میں لگا ئی ۔ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس کے جگر میں پیوست ہو نے لگے ۔اس بیان کی برکت سے اس میں حیر ت انگیز طور پر مدنی انقلاب آگیا ۔یہاں تک کہ کو لمبو جیسے فحاشی و عریانی سے بھر پورعلاقے میں اس نے داڑھی اور سبز سبز عمامہ شریف کا مدنی تاج مستقل طور پر سجا لیا۔دعوت اسلامی کے مدنی کاموں میں مشغولیت اختیار کرلی اور امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت ہو کر عطاری ہونے کی سعادت بھی پالی ۔ ۱۰جولائی 2003کو وہ بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے ۔''