Brailvi Books

تعارف امیرِ اہلسنّت
12 - 88
محترم  ۱۳۷۰؁ھ میں سفرِ حج پر روانہ ہوئے ۔ایامِ حج میں منٰی میں سخت لُو چلی جس کی وجہ سے کئی حجاج کرام فوت ہوگئے،ان میں حاجی عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنّان بھی شامل تھے جو مختصر علالت کے بعد ۱۴ذوالْحِجَّۃ الحرام  ۱۳۷۰؁ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
اِنَّا لِلّٰہِ واِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
    الحمدللہ عزوجل!حاجی عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنان کس قدر خوش نصیب تھے کہ وہ سفرِ حج کے دوران اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔سفرِحج کے دوران انتقال کرجانے والے کے بارے میں رحمتِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:''جو حج کیلئے نکلا اور مرگیا قیامت تک اس کیلئے حج کا ثواب لکھاجائے گا اور جو عمرہ کیلئے نکلا اور مرگیا اس کیلئے قیامت تک عمرے کا ثواب لکھاجائیگا اور جو جہاد میں گیا اور مرگیا اس کیلئے قیامت تک غازی کا ثواب لکھاجائیگا۔''
 (المعجم الاوسط،الحديث ۵۳۲۱،ج۴ص۹۳،دار الفکر بيروت)
    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ،'' جو اس راہ میں حج یا عمر ہ کیلئے نکلا اور مرگیا اس کی پیشی نہیں ہوگی ،نہ حساب ہوگا اس سے کہاجائے گا توجنت میں داخل ہو۔''
 (مسند ابی يعلیٰ الموصلی ،مسند عائشہ،الحديث ۴۵۸۹،ج۴،ص۱۵۲،دار الکتب العلميۃ بیروت)
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند 

سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے
ایمان افروز خواب:
     امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بڑی ہمشیرہ کا بیان ہے کہ اباجا ن علیہ رحمۃ المنان
Flag Counter