۱۸ ذوالحجہ ۱۳۶۷ھ مطابق ۲۳اکتوبر ۱۹۴۸ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، اب آواز دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگی، شاہزادگان نے کان لگا کر سنا تو زبان پر کلمہ طیبہ جاری ہے، دفعتاً سینہ اقدس پر نور کا لَمْعہ محسوس ہوا اور ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالق حقیقی سے جاملا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجد کے بائیں گوشے میں کی گئی آج بھی آپ سے اکتساب فیض کا سلسلہ جاری ہے اورتاقیامت جاری رہے گا ان شآء اللہ عزوجل ۔
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم