Brailvi Books

صراط الجنان جلد چہارم
97 - 576
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر تسکین نازل فرمائی کہ اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے اور اہلِ ایمان پر تسکین نازل فرمائی کہ حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پکارنے سے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی خدمت میں واپس آئے۔ (1) 
	اس سے معلوم ہوا کہ جنگ ِحنین میں بھاگ جانے والے مسلمان مومن ہی رہے، ان کی معافی ہو گئی، ان پر رب عَزَّوَجَلَّنے سکینہ اتار۔ اب جو ان پر اعتراض کرے وہ ان آیات کامخالف ہے۔ نیز یہ بھاگ جانے والے ہی واپس ہوئے اور انہوں نے معرکہ فتح کیا لہٰذا یہ فتح گزشتہ خطاکا کفارہ ہو گئی۔آیت ِ مبارکہ میں تسکین اترنے کاتذکرہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کیلئے پہلے اور بقیہ کیلئے بعد میں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ تسکین رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی برکت سے نازل ہوئی اور پھر آپ کے فیضان سے بقیہ صحابہ پر اتری اس لئے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا تذکرہ پہلے ہوا ،ورنہ گھبرانے والے حضرات تو دوسرے تھے اور سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تو میدانِ جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ (2)
{ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا:اور اس نے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔} یعنی فرشتے جنہیں کفار نے ابلق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے عمامہ باندھے دیکھا یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے۔ (3) 
ثُمَّ یَتُوۡبُ اللہُ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ ثُمَّ یَتُوۡبُ اللہُ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ :پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔} یعنی انہیں اسلام کی توفیق عطا فرمائے گا ۔ چنانچہ ہوازن کے باقی لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور وہ مسلمان ہو کر رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان کے اسیروں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…جلالین، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۱۵۷۔
2…خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲/۲۲۸، ملتقطاً۔
3…ابو سعود، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲/۳۹۷، ملخصاً۔