مسلمانوں کو نماز روزے کا کہا جائے تو یہ اپنی دُنیوی مصروفیات اور کام کی زیادتی کا بہانہ بنا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر چند گھنٹوں کے لئے بھوک برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ مسلمانوں کو کاروباری اور تجارتی معاملات شرعی طریقے کے مطابق سر انجام دینے کی ترغیب دی جائے تو وہ ضروریاتِ زندگی کی زیادتی اور اپنے منافع میں کمی ہو جانے کا رونا رو کراس سے روگردانی کرتے ہیں۔ مسلمان عورتوں کو شرعی پردے کی تلقین کی جائے تو وہ اسے پرانی سوچ اور عورتوں پر بلا وجہ کی پابندی قرار دے کر اور آزادیٔ نِسواں کے خلاف سمجھ کراس پر عمل کرنے کوتیار نہیں۔ طلاق کے معاملات میں جب اسلامی قانون کی رو سے شوہر اور بیوی میں جدائی کا فیصلہ ہو جائے تو اسلامی حکم کے سامنے سرِ تسلیم خَم کرنے کی بجائے یہ طرح طرح کے حیلے بہانے تراش کر ناجائز تَعلُّقات کی زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ سرِ دست یہ چند مثالیں عرض کی ہیں ورنہ زندگی کا شائد ہی کوئی گوشہ ایسا ہو جس میں دین پر دنیا کو ترجیح نہ دی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور دنیا کے مقابلے میں دین کی اہمیت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّیَوْمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنۡکُمْ شَیْـًٔا وَّضَاقَتْ عَلَیۡکُمُ الۡاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدْبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللہ نے بہت جگہ تمہاری مدد کی اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ ا ٓ ئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ دے کر پھرگئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی اورحنین کے دن کو یاد کروجب تمہاری کثرت نے تمہیں خود پسندی میں مبتلا کردیا تو یہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور تم پر زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔
{ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ:بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی ۔}یعنی رسول کریم